گوشت اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عید قربان کا تحفہ ہے
تمام احباب کو عید ا لاضحی مبارک ہو
گوشت کے ساتھ ساتھ موسمی پھل اور سبزیاں بھی استعمال کریں:یونانی میڈیکل آفیسرقاضی ایم اے خالد
وزیر اعلیٰ پنجاب کا تین دن میں حکیموں اور ہومیو ڈاکٹرز کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا حکم
لاہور(ہیلتھ لائن)وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے محکمہ صحت پنجاب کو حکم دیا ہے کہ تین دن کے اندرمستند حکیموں اور ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جائے۔لاہور میں انسداد ڈینگی کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ ڈینگی سے متعلق تر بیت کے لیے ڈاکٹروں اور نرسوں کو سری لنکا،تھائی لینڈ،سنگاپور اور انڈونیشیا بھیجا جا ئے گا ۔انہوں نے سیکرٹری خوراک کو ہدایت کی کہ ہوٹلز ،ریسٹورانٹس اور دیگر مقامات پر صحت وصفائی کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کی صورت میں فورا ً کارروائی کی جائے ۔
اینٹی بایوٹیکس سے پیدا شدہ سپر بگس لاکھوں ہلاکتوں کا باعث بن سکتے ہیں:حکیم قاضی ایم اے خالد
”ایلوپیتھک طریق علاج دنیا کے سب سے بڑے مسئلہ صحت کا شکار ہو چکا ہے”
حکومت طب یونانی کی ترویج و ترقی کیلئے فوری اقدامات کرے:کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور 02اکتوبر :یہ بات ایلوپیتھک اور علم الجراثیم کے پیروکاروںکیلئے مایوسی اور ناکامی کا باعث ہے کہ گذشتہ70 برسوں سے اینٹی بایوٹکس’اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ایلوپیتھک ادویات کے بے جا استعمال کی وجہ سے ایسے مائکروب یا خردبینی جرثومے(SUPER BUGS )پیدا ہو چکے ہیں جن میں ان دواؤں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے( جس کی بدولت بہت سی ایلوپیتھک ادویہ بے اثر ہو چکی ہیں)یہ سپربگس لاکھوںاموات کا باعث بن سکتے ہیں جن کا فوری تدارک اس وقت دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ ایلوپیتھک طریق علاج کی فی الوقت ناکامی کے بعدصدیوں سے مستعمل ہربل سسٹم آف میڈیسن (طب یونانی)ہی دنیا کے لئے شفایابی کا پیام ہے جس کا ادراک ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کی سربراہ مارگریٹ چان بھی کرچکی ہیں اور دنیا بھر کی حکومتوں کو اپنے ہیلتھ پراجیکٹس میں اس کی شمولیت یقینی بنانے کا کہہ چکی ہیں۔اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور مقامی صوبائی حکومتوں کو بھی تعصب چھوڑ کراس کا ادراک کرنا چاہئے اور طب یونانی کی ترقی وترویج کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے زیر اہتمام مرکزی آفس ٣٢ذیلدارروڈاچھرہ لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی لیکچر میںکیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایلوپیتھک ادویات کی ناکامی سے پیدا شدہ ااس مسئلے کو فوری حل نہ کیا جا سکا توجلد ہی دنیا پر متعدی امراض کا راج ہوگاجس سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ممالک نہیں بچیں گے کیونکہ عالمی تجارت اورفضائی سفر میں اضافہ کی وجہ سے جراثیم ‘وائرس اور سپر بگس کی تباہ کاریاں صرف چند گھنٹوں میں ممکن ہے۔سوائن فلو’کانگو اور ڈینگی وائرس اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔سپر بگس یقیناًمیڈیکل کے شعبہ میں ایک نیا نام ہے۔یہ نام انہی جرثوموں کو دیا گیا ہے جو ہر قسم کی ایلو پیتھک ادویات کے خلاف قوت مزاحمت حاصل کر چکے ہیںیعنی ان کی پیدا کردہ انفیکشن ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق فی الوقت ناقابل علاج قرار دی گئی ہے جو لاکھوںاموات کا باعث بن سکتی ہے۔اس کی وجہ ایلوپیتھک ادویہ کاناقص تشخیص پرنامناسب استعمال ہے جسکی ایک حالیہ مثال کے مطابق ڈینگی کے مریضوں کوناقص تشخیص کی بنا پربیشتر ایلوپیتھک ڈاکٹرز کی طرف ے اینٹی بایوٹک ادویات استعمال کروانا ہے جس سے اموات میں یکدم اضافہ شروع ہوگیااور پھر اس کوتاہی کا علم ہونے پر صرف پیراسیٹامول پر اکتفا کیا گیا تو اموات کنٹرول ہوئیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ فی الوقت وائرس کو ختم کرنا بعض وائرل ڈیزیزز میں مرض کی بجائے مریض کو ختم کرنا ہے یہاں فطری طریق علاج طب یونانی کی راہنمائی دنیا بھر کے معالجین کے کام آ رہی ہے کہ صرف جراثیم اور وائرس کے خاتمے پر زور دینے کی بجائے مدافعتی نظام کے غلبہ کیلئے ایمیون سسٹم کو طاقتور بنایا جائے وائرس خود ہی معدوم ہو جائے گا۔ڈینگی وائرس میں انار وسیب کاجوس’ شہد اور پپیتے کے پتوں سے شفا یابی اس کی واضح مثال ہے۔ سپر بگس کے خاتمے کیلئے نئی اینٹی بایوٹکس کی تیاری کا عمل ترقی یافتہ ممالک میں جاری ہے جو لازمی بات ہے کہ مزید سپر بگس کاباعث بنیں گی ۔
طب یونانی اور ہومیو پیتھک کو عطائیت قرار دینا آئین پاکستان کی توہین ہے
طب یونانی قومی ورثہ ہے ‘جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا:حکیم قاضی ایم اے خالد
ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیانے بلامعاوضہ اہم کردار ادا کیا’کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور یکم نومبر:مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میںملکی و غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق وطن عزیز میں سرکاری طور پر تین طریقہ علاج یعنی طب یونانی’ ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک منظور شدہ ہیں۔اپنے اپنے طریق علاج کے اندر رہتے ہوئے پریکٹس عطائیت نہیں کہلا سکتی۔لہذا کسی بھی طریق علاج کے ماہرین کی طرف سے آئینی وقانونی طور پر تسلیم شدہ طریق علاج کو عطائیت قرار دیناقابل مذمت فعل اور آئین پاکستان کی توہین ہے ۔غیرملکی مفاد کے علمبردار’ ملٹی نیشنل دواسازاداروں کے تنخواہ دار’ایلوپیتھک فیملی فزیشنز کی طرف سے’ طب یونانی کودیوار سے نہیںلگنے دیںگے۔طب یونانی قومی ورثہ اور پاکستانی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔حکیم خالد نے کہا کہ طب یونانی کے کاروان میں بی ای ایم ایس ڈگری ہولڈرز’گریجوایٹس اور پوسٹ گریجوایٹس اطباشامل ہو چکے ہیں جو یقیناً متعصب طریقہ علاج کی مقبولیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔پنجاب حکومت کی طرف سے اطباء اور ہومیو ڈاکٹرز کو سرٹیفکیٹس کے اجرا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قاضی خالد نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سربراہ کی خصوصی ہدایات پر یہ ضروری ہے ایلوپیتھک فیملی فزیشنز احمقوں کی جنت میں بس رہے ہیںدنیا میں کیا ہو رہا ہے اس کیلئے انہیں اپنا نالج اپڈیٹ رکھنا چاہئے ۔ یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ جب حکومت’بیوروکریسی اور ایلوپیتھک ماہرین خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اس وقت ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیا اپنا کرداربغیر کسی معاوضہ کے اداکر رہے تھے۔ڈینگی اویرنس کے حکومتی سیمینارز و تربیتی ورکشاپس میں جو کچھ بتایا جا رہا ہے۔کونسل آف ہربل فزیشنز’پاکستان بھر کی عوام کو بہت پہلے بتا چکی ہے۔اس سلسلے میںالیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکا چھ ماہ کا ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ایلوپیتھک میں ڈینگی بخار کا کوئی علاج نہیں ہے۔2006میں سب سے پہلے کونسل آف ہربل فزیشنز نے ہی انتباہ کیا تھا کہ ڈینگی کے مریضوںکو اینٹی بایوٹک ادویات استعمال نہ کروائی جائیںکیونکہ وائرس کو ختم کرنا بعض وائرل ڈیزیزز میں مرض کی بجائے مریض کو ختم کرنا ہے یہاں فطری طریق علاج طب یونانی کی راہنمائی دنیا بھر کے معالجین کے کام آ رہی ہے کہ صرف جراثیم اور وائرس کے خاتمے پر زور دینے کی بجائے مدافعتی نظام کے غلبہ کیلئے ایمیون سسٹم کو طاقتور بنایا جائے وائرس خود ہی معدوم ہو جائے گا۔ڈینگی وائرس میںانارو سیب کاجوس شہد اور پپیتے کے پتوں سے شفا یابی اس کی واضح مثال ہے۔ لہذا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان کی ہدائت کے مطابق محکمہ ہیلتھ پنجاب ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی تربیت کیلئے طب یونانی کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کرے۔
اونٹ کا گوشت کھائیں’ بیماریاں دور بھگائیں
اونٹ کا گوشت کھانے سے کئی بیماریاں دور ہوجاتی ہیں:حکیم قاضی ایم اے خالد
اونٹ کا گوشت بخار ‘شیاٹیکا’کالا یرقان ‘ہیپاٹائیٹس سی اوراعصابی وجسمانی کمزوری کا بہترین علاج ہے

لاہور 30اکتوبر:اونٹ کا گوشت عام طور پر شاذونادر ہی ملتا ہے لیکن عید قربان پر یہ گوشت بھی وافر مقدار میں ہوتا ہے اور جنہیں یہ گوشت میسر آجائے وہ بہت سی امراض سے بچ سکتے ہیں ۔ اونٹ کا گوشت نمکین ہوتا ہے اس لئے ہائی بلڈ پریشر کی انتہائی پچیدگی میں اس کا استعمال مناسب نہیں۔افادہ ِعام کیلئے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے اونٹ کے گوشت کے فوائد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اونٹ کا گوشت پرانے بخار ‘عرق النساء (شیا ٹیکا ) سیاہ یرقان ‘ہیپا ٹائٹس سی اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے اعضائے رئیسہ کی طاقت اور تقویت باہ کیلئے بھی مستعمل ہے ۔اعصابی کمزوری اور جسمانی کمزوری میں فائدہ مند ہے ۔مذکورہ بالا فوائد حاصل کرنے کیلئے اس کی مقدار خوراک ایک سو گرام ہے۔بواسیر کیلئے اونٹ کی چربی کا لیپ انتہائی مفید ہے نیز یہ چربی جوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند ہے۔اس حوالے سے دنیا بھر میں متعدد تحقیقات ریسرچ جرنلز کی زینت بن چکی ہیں خصوصاً قاہرہ کے نیشنل ریسرچ سینٹر میں ایک تحقیق کے مطابق اونٹ کے گوشت کو امراض قلب میں مفید اور انسانی جسم کیلئے کم چکنائی والا’تمام ضروری معدنیات وحیاتین سے بھرپور ‘پروٹین کا موثر ذریعہ قرار دیا ہے۔لہٰذاعید الا ضحی پر اگر یہ گوشت مل جائے تو اس سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے ۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں125ملین سے زائد افراد سورائسس میں مبتلا ہیں
چنبل لاعلاج نہیں’طب یونانی میںاس کا شافی علاج موجود ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
سو سے زائد جڑی بوٹیاں سورائسس و دیگر جلدی امراض میں موثر ہیں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور 29اکتوبر: سورائسس یعنی چنبل کے عالمی دن منانے کا مقصد اس مرض کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔دنیا بھر میں125ملین سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔طب یونانی (اسلامی) میں سورائسس اور دیگر جلدی امراض کے علاج کیلئے سو سے زائد تحقیق شدہ جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔اس امر کا اظہار مرکزی جنرل سیکرٹری کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ سورائسس ڈے کے موقع پرہیلتھ پاک کے زیر اہتمام” ہربس یوزفل ان ڈرماٹولوجیکل تھیراپی” کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اہل یورپ سورائسس کا زیادہ شکار ہیں۔اس جلدی مرض میںسوزش ہو کر جلد کی سطح کھردری ہو جاتی ہے اورمچھلی کی طرح جلد کے خشک چھلکے اترتے ہیں ۔ آغاز مرض میں چھوٹے چھوٹے سرخ گلابی دانے بنتے ہیں ان پر چھلکوں کی تہہ جم جاتی ہے اور متاثرہ مقام کی جگہ بڑھتی جاتی ہے۔ خارش سے سفید چھلکے اترکر خون بھی خارج ہونے لگتا ہے۔سخت تکلیف دہ یہ مرض ضدی مرض ہے اور جلدی نہیں جاتا ۔اس کا زیادہ زور کہنیوں’بازؤں’ گھٹنوں’ ٹانگوں’ سر اور کمر کے حصوں پر ہوتا ہے ۔گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔طب مغرب(ایلوپیتھک)کے نزدیک اس مرض کا باعث ایک وائرس ہے۔جبکہ طب یونانی اسلامی کے مطابق اس کا شمار سوداوی امراض میں ہوتا ہے یہ بچوں اور بوڑھوں میں کم ہوتا ہے ۔ البتہ نوجوانوں میں جن کی عمر 20سال سے لے کر چالیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔طب یونانی اسلامی کے نزدیک خلط سودا کے سبب ہوتا ہے ۔ زہریلا سوداوی بدنی موادجب جسم خارج کرنے میں ناکام رہتا ہے تویہ سوداوی مواد جلد کو متاثر کرتا ہے ۔ اور دانوںو چنبل کی صورت نمودار ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ نظام ہضم کی خرابی ‘میلا کچیلا رہنا ‘قبض شراب نوشی ‘جذباتی تناؤ’ ذہنی دباؤ’ ڈیپریشن سے بھی جلد کی سرگرمی بڑھ کر یہ مرض ہو سکتا ہے ۔ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق اس مرض کے علاج کے سلسلے میں ابھی تحقیق جاری ہے اور ہنوز اس کا شافی علاج ان کے پاس نہیں ہے ۔لیکن طب یونانی اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں سورائسس کا مکمل شافی علاج موجود ہے۔اسگندناگوری جڑی بوٹی کا اندرونی و بیرونی استعمال صدیوں سے مستعمل ہے۔چنبل اور دیگر جلدی امراض میں اسگند ناگوری کی افادیت جدید تحقیقات نے بھی ثابت کر دی ہے۔ عمائدین طب کے معمول مطب چند نسخے افادہ عوام کیلئے پیش کئے جارہے ہیںجن کے تین ماہ مسلسل استعمال سے لاتعداد افرادسورائسس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔(امید ہے اس سے سیکرٹری ہیلتھ سمیت متعدد بیوروکریٹس کی یہ شکایت کہ حکیم مجرب نسخے مخفی رکھتے ہیں دور ہو جائے گی )نسخہ نمبر ایک۔رسو ت ‘چاکسو’نرکچور’ کتھ سفید ہر ایک 3 گرام چاروں اجزا پیس کر آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے ۔ سہ پہر کو قرص رسوت ایک عدد تازہ پانی لے کر کھا لیں اور شربت عشبہ خاص دو چمچے پی لیں ۔نسخہ نمبر 2گل منڈی دس عدد’چرائتہ چھ گرام ۔آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر شربت عناب دو چمچے ملا کر صبح نہار منہ پی لیں ۔اس کے علاوہ اجوائن چالیس گرام ‘پھٹکری سفیددس گرام’ توتیا ئے سبزدس گرام ان تمام چیز وں کو لوہے کی کڑاہی میں آگ پر اتنی دیر رکھیں کہ وہ سیا ہ ہو جائے ۔ پھر مثل سرمہ کر کے ویزلین ملا کر مرہم تیا ر کر لیں(بہتر ہے کسی ماہر طبیب سے تیار کروالیں۔) گرم پانی سے متاثرہ جلد صاف کریںاور یہ مرہم لگائیں یااگر تیار نہ کر سکیں تو حکنول لگائیں۔
ذہنی دباؤ سورائسس(چنبل) کی بڑی وجہ ہے : کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

گنجان علاقوں میں جلدی امراض زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں:حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور27اکتوبر:مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے کہا ہے کہ مختلف طبقات اور علاقوں میں جلدی امراض کی شرح مختلف ہے تاہم سورائسس (چنبل ) خارش اور کیل مہاسوں کا مرض تمام طبقات میں یکساں ہے۔ یہ باتیں انہوں نے ورلڈ سورائسس ڈے کے حوالے سے آگہی مہم کے آغاز پر”ہیلتھ پاک” کے زیر اہتمام جلدی امراض کے موضوع پرلیکچر کے دوران کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی دباؤ سورائسس کی بڑی وجہ ہے ۔جلدی امراض کا تناسب ہر طبقہ اور علاقے میں مختلف ہوتا ہے۔ داد’ خارش’ ایگزیما’جلد کی پھپھوندی’ فنگس’جوئیں غریب اور درمیانے طبقے کے علاقوںمیں عام ہیں اور ان کا علاج بھی ان علاقوں میں دشوار ہوتا ہے کیونکہ کم جگہ میں زیادہ افراد کی رہائش’ ایک دوسرے کا تولیہ صابن وغیرہ استعمال کرنے اور کمروں کا کشادہ اور ہوا دار نہ ہونے سے یہ امراض تیزی سے بڑھتے رہتے ہیں اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ سورائسس (چنبل ) اورخارش کی بیماری پوش ایریاز میں ڈرائیوروںو دیگر گھریلو ملازمین نیز گھریلو جانوروںکے ذریعے اور سر کی جوئیں اسکولوں اور مدرسوں میں بچوں کے ایک دوسرے کے ذریعے منتقل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کے کیل مہاسوں کا تناسب تقریباً تمام طبقات کے افراد میں یکساں ہے جبکہ خواتین اس معاملے میں مردوں کی نسبت زیادہ فکرمند ہوتی ہیں۔طب یونانی میں چنبل کا سوفیصد علاج موجود ہے ۔سو سے زائد جڑی بوٹیاںسورائسس و دیگر جلدی امراض میں موثر ہیں ۔ اسگند ناگوری (جسے آکسن اور انڈین جن سنگ بھی کہا جاتا ہے) کو سورائسس ‘خارش اورزخموںکے لئے بیرونی طورپرباریک سفوف بنا کر اور ایلوویرا جیل شامل کر کے لیپ کی صورت میںاستعمال کیا جاتا ہے۔اندرونی طورپراس کی خشک جڑکا سفوف چنبل سمیت مختلف جلدی امراض’مثلاً برص’بال چراورنفسیاتی عوارض وذہنی دباؤ(Stress)کی وجہ سے ہونے والی جلدی شکایات میں جدید تحقیقات سے موثر پایا گیا ہے۔
٭…٭…٭
news@healthlineint.co.cc

November 06, 2011
Qazi M.A Khalid

